When Hulk Baghlol Was Controlling Everything Why Imran Khan Did Not Sack Him Or Resigned Himself

    0
    619
    The Story Of Regime Change Operation In Pakistan

    کئی پاکستانیوں کو کہتے دیکھ رہا ہوں کہ جب باجوہ سب کچھ کر رہا تھا تو آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں یا خود مستعفی کیوں نہیں ہوئے آج آپکو اس موضوع پہ ایک اہم ترین تحریر لکھ رہا ہوں پاکستان میں فیصلے کمپنی کرتی ہے الیکشن صرف ماڈرن مغربی ممالک کی سپورٹ لینے کیلئے اور جمہوریت کا جھوٹا تاثر دینے کیلئے کروائے جاتے ہیں، بنیادی طور پہ پاکستان کو 75 سال سے ایسے ہی جھوٹوں کی بنیاد پہ چلایا جارہا ہے کیا وجہ ہے کہ نواز شریف 2 بار وزیر اعظم رہنے کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جرنیلوں کو سپر وزیر اعظم بننے کا کوئی حق نہیں ہے وہ کیوں اپنا کام نہیں کرتے کیوں ریاست کے اوپر ریاست بنائی ہوئی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آصف زرداری جیسا مفاہمت پسند بھی صدر رہتے ہوئے ذہنی مریض بن جاتا ہے اور بعد میں اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرتا ہے؟ اب آتے ہیں عمران خان کی طرف عمران خان 2018 میں وزیر اعظم بنے تو پورے ملک میں احتساب کی فضاء بنی ہوئی تھی عمران خان 26 سال سے احتساب کے نعرے پہ سیاست کر رہے تھے بڑے بڑے منی لانڈررز اور کرپٹ لوگوں پہ اوپن اینڈ شٹ کیسز بنے ہوئے تھے نواز شریف کو سزا ہوچکی تھی ایسے میں عمران خان کا یہ کہنا کہ کمپنی سرکار میری حکومت کیساتھ سیم پیج پہ ہے بلکل درست بات تھی (آگے چل کے آپکو بتاتا ہوں کہ عمران خان کو کمپنی نے پہلے دن سے کیسے دھوکا دیا) عمران خان یہ جانتے تھے کہ ملک فوج چلاتی ہے لیکن ہماری طرح انکی بھی یہی سوچ تھی کہ اسکی وجہ سیاست دانوں کی کرپشن اور نا اہلی جیسے ہی ایک ویژن رکھنے والا بندہ جو کرپشن سے کوسوں دور رہے گا تو کمپنی خود بخود اپنے ڈومین میں واپس چلی جائے گی آپ نے عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں کئی انٹرویوز میں سنا ہوگا کہ ادارے ریکارڈنگ کرتے ہیں انہیں سب پتہ ہے کہ نہ میں کوئی کرپشن کر رہا ہوں نہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہوں جسکی وجہ سے ادارے میرے پیچھے کھڑے ہیں(یہ کتنی بڑی خوش فہمی تھی اس پہ تھریڈ میں آگے چل کے بات ہوگی) کیونکہ حلک بغلول ایکسٹینشن چاہتا تھا اسلئے وہ نومبر 2019 تک انتہائی دوستانہ انداز میں عمران خان کیساتھ چلتا رہا بہت سے اہم فیصلے جو ملک کیلئے تھے ان میں بظاہر ساتھ بھی دیتا رہا لیکن یہاں سے وہ کھیل کھلنا شروع ہوتا ہے جسکا آغاز عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے بھی پہلے شروع ہوچکا تھا کمپنی فیصلہ کر چکی تھی کہ ایک ٹرم شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانا ہے اور اس کے بعد کم از کم 10 سال بلاول کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پہ بٹھانا ہے کیونکہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست نہیں بلکہ لبرل سیکیولر ملک بنے گا آپ سب کو بتاتا چلوں کہ جس ملک میں ریاست کی مرضی کیخلاف ٹویٹ کرنے پہ لوگ اٹھا کے ننگے کئے جاتے ہیں وہاں میرا جسم میری مرضی سے شروع ہونے والا مارچ ہم جنس پرستی کی پروموشن کرنے لگا جسکو پوری سرپرستی حاصل تھی ہے اور آگے بھی رہے گی پی پی یہ والا پاکستان بنانے اور مغرب میں پاکستان کا ماڈرن جدت پسند امیج بنانے کیلئے ایم ترین مہرہ ہے پاکستان کہ تمام اینٹی عمران صحافی دل سے جیالے ہیں نواز شریف نے انہیں صرف بھاڑے پہ لیا ہوا ہے ورنہ وہ دل سے جئے بھٹو کے ہی نعرے لگاتے ہیں عمران خان کا ریاست مدینہ کا نعرہ ان قوتوں کیلئے ناقابل برداشت ہے انکا بس نہیں چلتا وہ عمران خان کو پھانسی دے دیں یا اپنے ہاتھوں سے گلا دبادیں 2017 میں نواز شریف کو ہٹا کے شہباز کو وزارت عظمیٰ کیلئے گرین سگنل دے دیا گیا شہباز شریف باجوہ کے فیورٹ تھے نواز شریف کو ہٹایا تاکہ شہباز کو وزیر اعظم بنا سکے نواز شریف بھی یہ بات جانتے تھے اسی لئے بھائی کی شدید خواہش کے باوجود خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا 2018 میں جب شہباز اور مفتاح کیساتھ بند کمروں میں کابینہ طے ہورہی تھی مفتاح نے ہاتھ کھڑے کردئے کہ معیشت کا جو حال ہے ہم نہیں سنبھال سکتے شہباز شریف بھی اس صورت حال سے ڈر گئے اور پھر طے ہوا کہ عمران خان مقبول ہے جیت سکتا ہے لیکن اسکو سادہ اکثریت نہیں لینے دیں گے اور ایک ڈیڑھ سال اس سے مشکل فیصلے کروا کے جب معیشت پٹڑی پہ چڑھ جائے گی تو شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا جائے گا عین بغلول کی مرضی کے مطابق نواز شریف کو لندن فرار کروا دیا گیا تاکہ شہباز کا رستہ صاف ہوجائے اور 2020 میں شہباز کو وزیر اعظم بنانے کی تیاری مکمل تھی کہ کورونا وبا آگئی اور اس طرح عمران خان کو مزید 2 سال مل گئےجس کے بعد 2022 میں بغلول نے اپنے فیورٹ اپنے پسندیدہ شخص کو وزیر اعظم بنانے کیلئے پاکستان کے آئین و قانون اور اخلاقایات کی دھجیاں اڑا دیں شہباز کے رستے کی ہر رکاوٹ ہٹا دی گئی اسکے کیسوں سے جڑے لوگ پراسرار طور پہ یکے بعد دیگرے وفات پانے لگے شہباز کے رستے کا ہر کانٹابغلول ہٹاتا چلا گیا ہاں بغلول نواز شریف کا وفادار ضرور تھا لیکن وہ وفاداری نواز شریف کے احسانات کی وجہ سے تھی لیکن اسے شہباز ہی پسند تھا نواز نہیں!جس ملک میں کمپنی کی مرضی کے بغیر ایک ٹویٹ بھی نہیں ہوتا وہاں پہ ہمیں بتایا گیا کہ عمران خان کو کمپنی لے کے آئی ہے اور وہ عمران خان کی پوری مدد کر رہی ہے لیکن اس دوران پاکستان میڈیا عمران خان پہ ایسے پل پڑا جیسے شیر اپنے شکار پہ حملہ کرتا ہے ایسا لگنے لگا کہ عمران خان پچھلے 72 سال کی ہر برائی کی وجہ ہے اور اگر یہ تمام برائیاں 90 دن میں ختم نہ ہوئیں تو پاکستانی میدیا اور 90 فیصد صحافی عمران خان کی پھانسی کا مطالبہ کردیں گے آپ خود سے سوال کریں کہ جس ملک میں کمپنی کی مرضی کیخلاف ٹویٹ کرنے پہ سینیٹر ننگا کر دیا جاتا ہے وہاں میڈیا اتنا آزاد تھا کہ بظاہر عمران خان کو کمپنی کی سپورٹ تھی لیکن تاریخی پراپیگنڈہ فیک نیوز کا طوفان جاری تھا اور کسی کو کوئی خوف نہیں تھا ایسی ایسی فیک نیوز چلائی گئیں کہ عمران خان کیساتھ ساتھ ملک کو بھی نقصان ہورہا تھا مگر کسی کو روکا نہیں گیا خود سے سوال کریں کہ ایسا کیوں تھا؟ کیونکہ کتی چوروں سے ملی ہوئی تھی ورنہ کسی چینل کی جرات نہ ہوتی جھوٹی من گھڑت تنقید کرنے کی جیسے آج نہیں ہے تب ملک کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو براہ راست ٹی وی پہ للکارا گیا گالیاں دی گئیں کسی کیخلاف کوئی کاروائی نہی ہوئی جسکا صاف مطلب ہے کہ سب ملی بھگت تھی بغلول عمران خان سے مشکل فیصلے کروا کے ذلیل و خوار کر کے نکالنے کے پلان پہ تیزی سے کام کر رہا تھا 9 فیصد مہنگائی پہ صبح شام پروگرام اور آج 40 فیصد مہنگائی پہ 90 فیصد میڈیا خاموش یہ سب عمران خان کو غیر مقبول کرنے کی سازش کا حصہ تھا یہاں تک کہ پاکستان نے سکھوں کیلئے کرتارپور پہ کام شروع کیا تو بغلول نے سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی جماعتوں کو اس کام پہ لگا دیا کہ عمران خان قادیانیوں کو راہداری دے رہا ہے کور سیل میں خاص لوگ بیٹھے تھے جو عمران خان کی تقریروں میں سے جان بوجھ کے ایسا مواد تلاش کرکے وٹس ایپ گروپوں کے ذریعے تشہیر کرتے تھے کہ عمران خان نے مذہب کی توہین کی، کشمیر کا سودا کرکے عمران خان کے سر ڈالنے کی کوشش بھی اب کھل کے سامنے آچکی ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ تھا یہ حامد میر جیسا عمران مخالف بھی گواہی دے چکا ہے یعنی ہر وہ کام کیا گیا جس سے عمران خان کی مقبولیت ختم ہو اور وہ تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیا جائے۔ اب آتے ہیں جس وجہ سے میں نے زندگی کا سب سے لمبا تھریڈ لکھا کہ عمران خان کے سامنے اتنی سازشیں ہورہی تھیں تو بغلول کو نکالا کیوں نہیں یا استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ میں نے پہلی بار 4 سال پہلے اپنی ویڈیو میں یہ بات کی تھی کہ جس طرح کا پرایپیگنڈہ چل رہا ہے اگر عوام اس پراپپیگنڈے کا شکار ہوگئی تو عمران خان کو ذلیل کرکے نکال دیا جائے گا اسلئے میڈیا کے جھوٹ پہ یقین مت کریں مہنگائی عمران خان کی نا اہلی کی وجہ سے نہیں ڈالر اصل قیمت پہ آیا بجلی کی قیمت اصل قیمت کی طرف جانا شروع ہوئی جس سے ایک دم مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن میڈیا کا پراپیگنڈہ جو کمپنی کے حکم پہ چل رہا تھا اتنا مظبوط تھا کہ میرے قریبی رشتے دار بھی میرے دلائل پہ قائل نہیں ہوتے تھے(اب سب مان گئے میری دور اندیشی) مجھے پی ٹی آئی کا پیڈ ملازم کہا جانے لگا لیکن میں اپنی اہلیہ کو کہتا تھا جس وقت میری باتیں اس سوئی ہوئی قوم کو سمجھ آئیں گی تب بہت دیر ہوچکی ہوگی کھیت اجڑ چکا ہوگا لیکن میرا ضمیر مطمئن ہوگا اور مجھے سکون کی نیند آتی ہے یہ سوچ کہ کہ میں اپنا کام کر رہا ہوں ایسے پراپیگنڈے نے عمران خان کی مقبولیت خاک میں ملادی تھی میں لوگوں کے منہ سے اتنی نفرت سنتا تھا کہ عمران خان کو ووٹ دے کے غلطی کردی اسنے اتنی مہنگائی کردی ہے ایسے میں یہ کہنا کہ عمران خان استعفیٰ دے کے عوام سے کہتا کہ تمام برائیوں کی جڑ کمپنی ہے تو لوگوں نے چھتر مارنے تھے اور اگر بغلول کو نکالنے کی کوشش کرتے تب بھی عوام کی سپورٹ نہ ملتی کیونکہ عمران خان مسلسل کہتے رہے کہ ہم ایک پیج پہ ہیں کمپنی میری پوری مدد کر رہی ہے ایسے میں کمپنی نے ٹیرین کیس یا فارن فنڈنگ کیس میں آنن فانن ناہل کروا کے آؤٹ کردینا تھا تو پیچھے ایک ہی رستہ بچا تھا کے اندر رہ کے اس سسٹم سے لڑا جائے اور آہستہ آہست ایکسپوز کیا جائے اور امید کی جائے کہ ایک دن عوام کو سب سمجھ آجائے گا عمران خان نے گاہے بگاہے اپنی تقریروں میں عوام کو تیار کرنا شروع کیا کہ حکومت تو کیا میری جان چلی جائے انکو این آر او نہیں دونگا کچھ لوگ یہ فقرہ بار بار سن کے تنگ بھی پڑ جاتے تھے لیکن اسکا اثر ہونے لگا لوگوں کو بات سمجھ آنا شروع ہوگئی پھر ایک کے بعد ایک عدالت سے شریفوں کو ریلیف ملا نواز شریف لندن بھاگا تو عمران خان کی وہ تقریر یاد ہوگی کہ مجھے ہارنا آتا ہے ہار کے جیتنا بھی آتا ہے سب اکٹھے ہوجاو جو کرنا ہے کرلو میں تم میں سے ایک ایک کو نہیں چھوڑوں گا عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ کا آغاز تب ہی کرچکے تھے لیکن اپنے پتے سینے سے لگا کے رکھے تھے کیونکہ ان جنگ کو لڑنے کیلئے کمپنی کا ایکسپوز ہونا اور عمران خان کا ناقابل یقین حد تک پاپولر ہونا بہت ضروری تھا ورنہ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار دی جاتی پھر اللہ کی کرنی یہ ہوئی کہ بغلول نے اپوزیشن کو گارنٹی دینے کیلئے کہ اس رجیم چینج کا اصل کردار اور گارنٹر امریکہ ہے سابق غدار کی لابنگ کے ذریعے سفیر کو دھمکی دلوائی جسکا مراسلہ آنے پہ وزیر اعظم سے تو چھپایا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کو بطور گارنٹی دکھایا گیا کہ آگے بڑھو بڑے ابو نے گارنٹی دے دی ہے یہ گارنٹی ملتے ہی عدم اعتماد کی تحریک آگئی اور اسکے بعد اللہ نے کیسے کمپنی کو ایکسپوز کیا اور عمران خان کی مقبولیت کو چار چاند لگے یہ ہم سب نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ارشد شریف جیسا بہادر جیدار ڈٹ کے کھڑا ہوا قوم کو آگاہ کیا عمران ریاض کی کچھ تقریروں نے بھی ماحول بنایا اور یوں عوام سب کچھ سمجھ گئی اب لڑائی لڑنے کا وقت تھا تو خان لڑ گیا اور ایسا لڑا کہ کمپنی گھبرا گئی اور اس پہ قاتلانہ حملہ کروا دیا کیونکہ کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ میرا یہ تھریڈ کرنے کا مقصد ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور نہتہ سیاستدان جسکے پاس نہ بندوق ہے نہ میزائل صرف اخلاقی قوت اور عوام کی حمایت سے ہی لڑ سکتا ہے جو کہ اب اسکے پاس وافر مقدار میں ہے اللہ کی مدد شامل حال رہی تو حقیقی آزادی کی یہ جنگ عوام ضرور جیتے گی اگلی بار جذباتی ہونے سے پہلے سوچیں کہ آپ نے بھی کوئی اچھا کردار ادا نہیں کیا جب وہ اکیلا لڑ رہا تھا اور آپ صرف 9 فیصد مہنگائی پہ اسے گالیاں دے رہے تھے!

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here