The Systamatic Expolitation and Subjugation In Pakistan’s Constitution

    0
    220

    پاکستان کا آئین اپنی موجودہ حالت میں صرف اشرافیہ کو تحفظ دیتا ہے اور کمزور کا استحصال کرتا ہے ایک چھوٹا سا مگر اہم تھریڈ لکھ کے آپکو اپنا نقطہ نظر سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں مثال کے طور پہ آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق کو ہی دیکھ لیں بولنے کی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے آئین کا آرٹیکل 19 اسکی یقین دہانی کرواتا ہے مگر باریک واردات بھی اسی آرٹیکل میں ڈالی گئی ہے

    اگر اس آرٹیکل کو پڑھیں تو بڑا اچھا لگتا ہے جہاں تک یہ لکھا ہے کہ بولنے کی آزادی ہے رائے کے اظہار کی آزادی ہے صحافتی آزادیاں ہیں مگر جہاں اس شق کو لفظ قانون کے ڈائرے میں رہتے ہوئے پہ ختم ہوجانا چاہیئے تھا وہاں یہ آرٹیکل باریک واردات ڈال کے آپ سے بولنے اور رائے کے اظہار کی آزادی فوری چھین لیتا ہے کیونکہ آگے جو کچھ بھی لکھا ہے آپ جب بھی کچھ ایسا بولیں گے جو طاقت  کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو پسند نہیں آے گا تو وہ ان میں سے کسی کیٹیگری میں ڈال کے آپکا منہ بندکردیں گے جیسے اسلام کی سربلندی کے بعد سے باریک واردات شروع ہوتی ہے، ملکی سالمیت، سیکیورٹی، دفاع، دوست ممالک سے تعلقات اور توہین عدالت۔ یعنی یہ سب قدغنیں ہیں اب اگر آپکے ذہن میں سوال پیدا ہورہا ہے کہ یہ سب تو بلکل جائز قدغنیں ہیں تو میں آپکو سمجھاتا ہوں کہ باریک واردات کیا ہے۔ آئین بنیادی طور پہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے عوام ٹیکس دیتی ہے بدلے میں ریاست عوام کی حفاظت بھی کرتی ہے اور اسے بنیادی حقوق کی گارنٹی دیتی ہے جیسے کے بولنے کی آزادی اظہار کی آزادی سیاست کرنے کی آزادی احتجاج کرنے کی آزادی وغیرہ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب آزادیاں آئین میں یعنی عوام سے کئے گئے معاہدے میں کیوں لکھی ہیں؟ اور عوام کو کس کے سامنے بولنے کی آزادی چاہیئے؟ تو قارئین عوام کو یہ آزادی ریاست کے سامنے بولنے کیلئے چاہیئے ہوتی ہے جب ریاست معاہدے کی خلاف ورزی کرے بنیادی حقوق کو روندے یا آپکو ریاست کی پالیسی پہ اعتراض ہو تو آپ کھل کے اسکا اظہار کرسکیں آپ اس ریاست کے آزاد شہری ہیں ریاست کے غلام نہیں لیکن جب آئین کی شق کو بغور پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ریاست نے جو قدغنیں لگائی ہیں آزادی اظہار اور آزادی رائے پہ اسکے بعد آپ ریاست کے اوپر کسی قسم کی تنقید کر ہی نہیں سکتے ورنہ ان میں سے کسی بھی ایک اعتراض کو بنیاد بنا کے آپکو جیل میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کے ملک دشمن اور غدار قرار دے دیا جائے گا جو آپ 76 سال سے اپنے سامنے ہوتا دیکھ بھی رہے ہیں اب آپ فریڈم آف ایسوسی ایشن کو ہی دیکھ لیں  شق 17 میں آزادی دی گئی ہے لیکن صرف قانون کی طرف سے عائد پابندی لکھنے کے بجائے آگے پھر وہی باریک واردات پاکستان کی آزادی سالمیت اور پبلک آرڈر اور اخلاقیات جیسی چیزوں کی قدغن ہے اب اگر کسی ملک میں آئین اور قانون کو فالو کیا جائے تو مجھے اس پہ کوئی اعتراض نہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں آئین کو روز روندا جاتا ہے ایسی قدغنیں صرف ریاست کے ہاتھ میں آپکی آواز دبانے اور آپکا استحصال کرنے کا ہتھیار ہوتی ہیں اور ہم روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں خاص طور پہ پچھلے دو سال سے۔ اب آپ کے ذہن میں اگر یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ سب کو کچھ بھی بولنے کی آزادی تو نہیں دی جاسکتی تو پھر اسکا حل   کیا ہے؟ آئیے اسکا حل تلاش کرتے ہیں جہاں تک مذہب کی بات ہے ہمارے پاس آئین کی شق 95 ہے جسکی ذیلی شقیں ہر قسم کی مذہبی توہین کے آگے مضبوط قلعہ ہیں اسلئے بولنے کی آزادی سے مذہب کو کوئی خطرہ نہیں تو پھر بولنے کی آزادی سے کسے خطرہ ہے جو اتنی قدغنیں ہیں؟ عوام کے بولنے کی آزادی سے صرف انہیں خطرہ ہے جو ملک چلاتے ہیں اور نہیں چاہتے ان سے کسی قسم کا سوال کیا جائے لیکن پاکستان کو جو بھی مسائل لاحق ہیں اگر ہم نے ان سے نکلنا ہے تو بولنے کی مکمل آزادی ہونا سب سے ضروری ہے ایک سوال ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر بولنے کی مکمل آزادی دے دی جائے تو لوگوں کی پگڑیاں سر بازار اچھالی جائیں گی کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی اسکا بہت آسان حل ہے جس طرح برطانیہ میں ہتک عزت کا سخت قانون ہے اور کیس بھی ایک سال کے اندر انجام کو پہنچ جاتا ہے اور اتنا مالی نقصان ہوتا ہے ہتک کرنے والے کو کہ وہ سڑک پہ آجاتا ہے ایسے ہی سخت قانون پاکستان میں بنانے پڑیں گے تاکہ ذاتی حملے اور بغیر ثبوت کے لوگوں پہ الزام نہ لگائے جاسکیں ہرجانہ اتنا زیادہ ہو کہ کوئی ایسا سوچے بھی نہ اور ہرجانہ نہ دینے کی صورت میں جائیداد فروخت کرکے رقم وصول کی جائے اور جسکی ہتک ہوئی اسے ادا کی جائے لیکن یہ قانون صرف عام عوام کیلئے ہو حکومت اور کسی ادارے کی ہتک عزت کے کسی قانون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر ادارہ عوام کو جوابدہ ہے اور ہر ادارے کو کارکردگی دکھا کے عوام سے عزت کروانی پڑے گی توہین عدالت کا قانون ختم کرنا پڑے گا ورنہ جسٹس منیر پیدا ہوتے رہیں گے یہاں پہ ہی ختم کروں گا کہ پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے اگر نکلنا ہے تو عوام کو بولنے اور اظہار کی غیر مشروط آزادی دینی پڑے گی ورنہ طاقت ور ہمیشہ قانون اور احتساب سے اوپر رہے گا اور کمزور ہمیشہ پستا رہے گا

     پہ ختم 

     

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here