کیا آپ وزیر اعظم کو سچ بولنے کے لئے بلاؤں گے؟ – فیصل واوڈا

0
24

پی ٹی آئی کے کالعدم ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کے لوگ عمران خان کو دفن کر رہے ہیں، فیصل نے چرچا
—فائل فوٹو

اِسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے اظہار کیا ہے کہ ہم کسی جج کی توہین کا حصہ نہیں بنیں گے، انصاف کا نظام چوبیس کروڑ لوگوں کی آواز کو سمجھتا ہے۔ کیا چوبیس کروڑ لوگوں کو آپ بلا لینگے؟ میں نے جج کی فیصلہ سچائی پر سوال پوچھا تھا جس کا جواب بابر ستار اور جسٹس اطہر من اللہ کے تضادی ہے۔ تاثر غلط ثابت ہوا ہے، میں نے کہا کہ اگر میرا سوال مانا نہیں جاتا تو کیا میرے خلاف کارروائی ہوگی؟ ان معاملات میں ہر مرتبہ ایک مرتبہ ججی کا پراکسی کرنا ہے۔ اب میں محاورہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کیا ہے، کیا باقی سیاسی رہنماؤں کو بھی پکڑنے کی ضرورت ہے؟ مجھے ایسی لغزشوں سے دور رہنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

میں دنوں دورانیہ تک یہ کہ رہا ہوں کہ پی ٹی آئی کے رکن اپنے قائد کے لیے مزید قبر کھود رہے ہیں، سیاسی طور پر، اب جو انکی تحقیق کی زمہ داری ہے کہ وہ بند رہیں تاکہ ان کی خود کا استفادہ حاصل کرتے رہیں۔ میں عمران خان سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ بیان آپ کا ہے؟ کیونکہ انہیں جیل میں رہنا ہے، اور یہ بیان ملک کو توڑنے کی سازش لگ رہی ہے۔ یہ بیان آپ کو بتاتا ہے کہ 9 مئی انہوں نے کیا ہے، بائیں جانب، آپ نے کیوں کیا بیان؟ اب جب ان کے کھلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تو وہ ایک اور مرحلہ شروع کر چکے ہیں ۔

فیصل واوڈا نے اُس سوال پر جواب دیا کہ ان سب موضوعات میں جلد فیصلہ ہوگا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ جو پارٹیوں نے ایم کیو ایم لندن پر عملدرآمد کیا ہو تحریک لبیک جو پاکستان کے محب وطن لوگ ہیں، دشمن نہیں، انہیں بلا لیا گیا تھا کیونکہ یہ ایک ملک توڑنے کی سازش سامنے آ چکی تھی۔ ان نے آپ پر برے اثرات ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

پٹی آئی کے اِن شریکوں کے اندر پوری گیم موجود ہے، بہت سے بڑے شخصیات بھی ان میں شامل ہیں، پاکستان کے تھیکیدار بھی ان کے ساتھ ہیں، یہ پوری ایک مافیا ہے جو چور، بے ایمان اور ملک دشمن عناصر ہیں۔ ان کی کارروائیوں کا موازنہ ان اہم واقعات پر کرتے ہوئے انکے مقصد کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ان تمام چیزوں کا حصہ بنتے ہیں تو آپ اپنی رکنیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور نو مئی کے حادثے سے آپ نے انکو دکھا دیا ہے کہ ان کی خلاف ورزیوں کا پابندی کرنے کی ضرورت ہے۔

پٹی آئی کے جوکر کالعدم ہونے جی رہے ہیں، 1971 کے واقعات پر ٹویٹر پر بھارتی ٹرولنگ کرتے ہوئے۔ ان کی مقدس مقصود خود ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اگر پارٹی پر کوئی قید لگائی نہیں جاتی تو وہ بھی ملک کے وفادار نہیں ہوں گے۔ الٹی جانب، اب یہ ملک کو بچانے پر حملہ کیا گیا ہے، پارٹی کے افراد عمران خان کو سیاسی طور پر مزید دبوں رہے ہیں، اور ان کو ایسی جگہ پر لے جا رہے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو۔ اب واقعیت سامنے آ گئی ہے، جو دلیری کرنے والے بل سے نکلے تھے، انہوں نے کسی کے اشارے پر دوبارہ بلوں کی سمت میں رخ کیوں بدلا؟

فیصل واوڈا نے جواب دے دیا کہ وہ کل تصور کر رہے ہیں کہ ان کے پر پر بٹے پریور کرنے سے حل کر دیا جاۓ گا، ان کا انداز سیاست نظر آرہا ہے، جب چاہیں تو پاوں پکڑ جاتے ہیں، جب چاہیں تو واپس دھرتے ہیں۔ اب یہ معافی گوئی شروع کر چکے ہیں، پہلے بزرگان برے تھے، پھر انہیں تربیت دی گئی تھی، اب وہ افواج کو یاد رکھنے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ اگر سیاست آگ لگانے کا نام ہے، ملک دشمنی کا نام ہے تو پھر کونسی موبائل ٹرولنگ کرنے کے شواہد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو انڈیا اور دیگر ملکوں کی سازش رہے ہیں؟ ان کے ساتھ کچھ نہ کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں؟

اب سوال ہے کہ وہ جو پٹی آئی کے لئے ٹویٹر اکاؤنٹ چلانے والے ہیں، کیا وہ اصلی پٹی آئی کے رکن ہیں یا عام لوگ ہیں؟PTI جوکر رہی،کالعدم ہونے کی طرف جائیگی۔1971کے واقعات پر ٹویٹر پر بھارتی ٹرولنگ کر رہے، ملک توڑنے کی سازش ہو رہی۔ برآسراری کے ثبوت دیئے جائیں، ورنہ پیچھے نہیں ہٹوں گا، PTI کے لوگ عمران خان کودفن کررہی ہیں۔ اگر پارٹی پر پابندی لگانے کی بات نہیں ہو رہی تو وہ بھی ملک کے مخلص نہیں ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here